Modern · 1846–1921 · بارہ، الہ آباد – الہ آباد
سید اکبر حسین، جو اکبر الہ آبادی کے نام سے مشہور ہیں، اردو شاعری کے سرِفہرست طنز نگار تھے۔ پیشے کے اعتبار سے جج، انہوں نے مشرق و مغرب کے تصادم کو ایک تیکھے، شفیق طنز سے دیکھا، استعماری نظام کی اندھی تقلید کا مذاق اڑاتے ہوئے خودداری اور ایمان کی وکالت کی۔ ان کے اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں۔
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ
دل میں جو آگ لگا دی وہ بجھائی نہ گئی
آنکھ سے جو بھی بہی وہ تو چھپائی نہ گئی