Modern · 1884–1936 · گورکھپور – گونڈہ
اصغر حسین، جو اصغر گونڈوی کے نام سے مشہور ہیں، عرفانی غزل کے شاعر اور جگر مرادآبادی کے بزرگ مربی (اور سسر) تھے۔ ان کا کلام دنیاوی محبت کو صوفیانہ انداز میں خدائی سے جوڑتا ہے، خاموش اور منور، اور وہ ان روحانی آوازوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں غزل کو نیا کیا۔
یہ عشق یہ جنون یہ ہوش یہ خرد
سب تیری راہ کے غبار ہیں میرے خدا
دلِ بے تاب کو منزل کا پتا مل جائے
اس اندھیری سی ڈگر میں کوئی دیا مل جائے
ہے آج وہی جلوۂ حسنِ ازل مگر
اب دیکھنے کو آنکھ نہیں بے نقاب ہے
فنا کے بعد بھی باقی رہے گا نام میرا
کہ عشقِ یار میں گزرا ہے ہر مقام میرا
تنہائی میں بھی ساتھ رہے یادِ یار کی
جیسے چراغ جلتا رہے شب کے باب میں
محبت میں وہ ایک عالم بھی آیا
کہ اپنا آپ بھی بیگانہ لگتا
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزاروں سال سے رہبر بھی ہیں رہزن بھی
گلِ تر بھیجنا مجھ کو کہ تیری یاد رہے
اس چمن میں مری بلبل کی بھی فریاد رہے