Contemporary · 1931–2002 · امروہہ – کراچی
جون ایلیا امروہہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد کراچی چلے گئے۔ عربی، فارسی اور فلسفے کے عالم، انہوں نے اپنے علم کو بے پروائی سے اوڑھا اور مایوسی، خود مذاق اور ناممکن محبت کو ایک بالکل اپنی غزل کی آواز بنایا۔ ان کا پہلا مجموعہ "شاید" ساٹھ برس کی عمر میں چھپا۔ 2002 میں انتقال کے بعد وہ نئی نسل میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعروں میں ہیں۔
بس اک غبار طور گماں کا ہے تہ بہ تہ
یعنی نظر بھی کچھ نہیں منظر بھی کچھ نہیں
ہے اب تو ایک جال سکون ہمیشگی
پرواز کا تو ذکر ہی کیا پر بھی کچھ نہیں
کتنا ڈراؤنا ہے یہ شہر نبود و بود
ایسا ڈراؤنا کہ یہاں ڈر بھی کچھ نہیں
پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
یعنی وفائے عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
نسبت میں ان کی جو ہے اذیت وہ ہے مگر
شہ رگ بھی کوئی شے نہیں اور سر بھی کچھ نہیں
یاراں تمہیں جو مجھ سے گلہ ہے تو کس لئے
مجھ کو تو اعتراض خدا پر بھی کچھ نہیں
گزرے گی جونؔ شہر میں رشتوں کے کس طرح
دل میں بھی کچھ نہیں ہے زباں پر بھی کچھ نہیں
ترے غرور کا حلیہ بگاڑ ڈالوں گا
میں آج تیرا گریبان پھاڑ ڈالوں گا
طرح طرح کے شگوفے جو چھوڑتا ہے تو
میں دل کا باغ نمو ہی اجاڑ ڈالوں گا
کہاں کا سیل اجل تا کنار گاہ عبد
میں ہوں عدم میں سبھی کو لتاڑ ڈالوں گا
بہت ادا سے تو گزرا ہے چشمہ ساروں سے
یہ سن کہ راہ میں تیری میں باڑ ڈالوں گا
شگفتگی کی تری یاد جو دلاتے ہیں
میں ایسے سارے ہی پودھے اکھاڑ ڈالوں گا
یہ طے کیا ہے کہ دریا موج مستی کو
سراب دشت تپیدا میں گاڑ ڈالوں گا
تمام نقش تمنا فریب تھے سو تھے
میں سارے نقش تمنا بگاڑ ڈالوں گا
جو رشتہ ہے دل جاں کا ہے سر بہ سر جھوٹا
سو میں تو اب دل و جاں میں دراڑ ڈالوں گا
جھنڈولے بالوں کی پر فتنہ اس سے کہہ دینا
میں اس کمین کو زندہ ہی گاڑ ڈالوں گا
مجھے تو اب اسے دنگل میں گندہ کرنا ہے
سو میں اسے برے حالوں پچھاڑ ڈالوں گا
کیا ہو گیا ہے گیسوئے خم دار کو ترے
آزاد کر رہے ہیں گرفتار کو ترے
اب تو ہے مدتوں سے شب و روز روبرو
کتنے ہی دن گزر گئے دیدار کو ترے
کل رات چوب دار سمیت آ کے لے گیا
اک غول طرحدار سر دار کو ترے