Modern · 1890–1960 · مرادآباد – گونڈہ
علی سکندر، جو جگر مرادآبادی کے نام سے مشہور ہیں، بیسویں صدی کے محبوب ترین غزل گو شاعروں میں سے تھے۔ اپنی ادائیگی کی موسیقی کے لیے مشہور، انہوں نے محبت، مے اور ترکِ دنیا پر ایک نغمہ ریز نرمی سے لکھا، اور اپنے مجموعے "آتشِ گل" پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ پایا۔ ان کی غزلیں آج بھی مشاعروں کی پسند ہیں۔
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
ان کا جو فرض ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
موت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیا
طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے
مرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے
ہم جسے گنگنا نہیں سکتے
وقت نے ایسا گیت کیوں گایا
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے