Classical · 1747–1824 · امروہہ – لکھنؤ
غلام ہمدانی مصحفی ایک کثیر التصانیف غزل گو شاعر تھے جنہوں نے دہلی کے محاورے کو لکھنؤ کے ابھرتے دربار تک پہنچایا۔ بہت سوں کے استاد اور انشا کے حریف، انہیں اکثر زبان کے لیے لفظ "اردو" کے اولین استعمال کا سہرا دیا جاتا ہے۔ ان کے کئی دیوان محبت، طنز اور سادہ اداسی پر پھیلے ہیں۔
اے مصحفی تو ان رخِ زیبا سے کچھ لکھ
پروانہ ہے یہ موجِ صبا اور کچھ نہیں
دیکھا جو حسنِ یار تو دل تھام کے رہ گئے
آنکھوں میں وہ جمال کا جلوہ سما گیا
ہوئی جس دم سے آنکھیں چار دل کو ہو گیا کیا کیا
مگر یہ عشق مجھ کو دے گیا آزار کیا کیا
غمِ ہجراں میں کٹتی ہے مری ساری رات
سحر کے واسطے تاروں کو میں گنتا ہوں
نہ چھیڑ اے فلک اب تو یہ سازِ زندگی
کہ ایک آہ میں ہے گردشِ روزگار مری
اے دل تجھے اب اس میں ہے کیا اضطراب
جو ہونا تھا سو ہو چکا اب صبر اور کچھ نہیں
وفا کی اس سے توقع عبث تھی اے مصحفی
جسے وفا کا کوئی پاس ہی نہ تھا ہرگز
جو دل پہ گزری ہے کس سے کہیں مگر پھر بھی
امید یار کی دامن سے ہم نے باندھ رکھی