Classical · 1831–1905 · دہلی – حیدرآباد
نواب مرزا خان، جو داغ دہلوی کے نام سے لکھتے تھے، کلاسیکی دہلی روایت کے آخری بڑے شاعروں میں سے تھے۔ بعد میں حیدرآباد کے دربار سے وابستہ ہوئے، وہ اپنی غزلوں کی سادگی، روانی اور محاوراتی سہولت کے لیے سراہے گئے۔
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا
دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں
الٹا زمانے بھر کا مجھے الزام ہو گیا
آپ کو ہم سے شکایت ہے تو ایسا کیجیے
بات ہی نہ کیجیے پیغام تک نہ بھیجیے