Contemporary · 1938–2016 · دہلی – ممبئی
ندا فاضلی دہلی میں پیدا ہوئے اور گوالیار میں پلے۔ بٹوارے میں خاندان پاکستان گیا، مگر وہ یہیں رہے۔ میر، کبیر اور لوک گیتوں سے رنگ لے کر انہوں نے ایسی ہندوستانی میں غزلیں اور دوہے لکھے جو ہر زبان پر چڑھ جائے۔ "گھر سے مسجد ہے بہت دور" جیسی سطریں جدید شاعری کی سب سے دہرائی جانے والی سطروں میں ہیں۔
مسجدیں ہیں نمازیوں کے لیے
اپنے گھر میں کہیں خدا رکھنا
جسم میں پھیلنے لگا ہے شہر
اپنی تنہائیاں بچا رکھنا
ملنا جلنا جہاں ضروری ہے
ملنے جلنے کا حوصلہ رکھنا
عمر کرنے کو ہے پچاس کو پار
کون ہے کس جگہ پتا رکھنا
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے
یہ کائنات کا پھیلاؤ تو بہت کم ہے
جہاں سما سکے تنہائی وہ مکاں بھی دے
میں اپنے آپ سے کب تک کیا کروں باتیں
مری زباں کو بھی کوئی ترجماں بھی دے
فلک کو چاند ستارے نوازنے والے
مجھے چراغ جلانے کو سائباں بھی دے
جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا
بچوں کے اسکول میں شاید تم سے ملی نہیں ہے دنیا
چار گھروں کے ایک محلے کے باہر بھی ہے آبادی
جیسی تمہیں دکھائی دی ہے سب کی وہی نہیں ہے دنیا
گھر میں ہی مت اسے سجاؤ ادھر ادھر بھی لے کے جاؤ
یوں لگتا ہے جیسے تم سے اب تک کھلی نہیں ہے دنیا
بھاگ رہی ہے گیند کے پیچھے جاگ رہی ہے چاند کے نیچے
شور بھرے کالے نعروں سے اب تک ڈری نہیں ہے دنیا
کسی بھی شہر میں جاؤ کہیں قیام کرو
کوئی فضا کوئی منظر کسی کے نام کرو
دعا سلام ضروری ہے شہر والوں سے
مگر اکیلے میں اپنا بھی احترام کرو
ہمیشہ امن نہیں ہوتا فاختاؤں میں
کبھی کبھار عقابوں سے بھی کلام کرو
ہر ایک بستی بدلتی ہے رنگ روپ کئی
جہاں بھی صبح گزارو ادھر ہی شام کرو
خدا کے حکم سے شیطان بھی ہے آدم بھی
وہ اپنا کام کرے گا تم اپنا کام کرو
کچھ دنوں تو شہر سارا اجنبی سا ہو گیا
پھر ہوا یوں وہ کسی کی میں کسی کا ہو گیا
عشق کر کے دیکھیے اپنا تو یہ ہے تجربہ
گھر محلہ شہر سب پہلے سے اچھا ہو گیا