Classical · 1712–1764 · اورنگ آباد – اورنگ آباد
سراج الدین اورنگ آبادی ولی کے بعد کی اس نسل کے شاعر تھے جب دکن اردو شاعری کا مرکز تھا۔ جوانی میں ایسا صوفیانہ جذب طاری ہوا کہ کہا جاتا ہے وہ برسوں خاموشی میں بھٹکتے رہے۔ پھر غزلوں کا دیوان دیا — جن میں "خبرِ تحیرِ عشق سن" سب سے مشہور ہے — جہاں صوفی فنا اور محبوب کا چہرہ ایک ہی مضمون ہیں۔
سیکھ گئی گلشن میں تیرے قد ستی
سرو پر قمری نے کو کو بولناں
کان میں ہے تیرے موتی آب دار
یا کسی عاشق کا آنسو بولناں
سامنے اس چہرۂ گلفام کے
ہر گل خوشبو کوں خود رو بولناں
حسن کے لشکر کے راوت ہیں دو چشم
زلف و لب شب خوں کا قابو بولناں
اب چراغ عقل گل کرنی سراجؔ
سوز دل سیں ایک یاہو بولناں
سینہ صافی کی ہے جسے عینک
اس کوں دیدار یار ہے بے شک
صفحۂ دل کوں داغ کی کر مہر
عشق کے شاہ نے دیا دستک
رہزن عقل سیں نہیں وسواس
ہوں حمایت میں عشق کی جب تک
بوالہوس سوز دل کوں کیا جانے
نہ جلے ہرگز آگ میں ابرک
غیر کا نقش غیر نقش نگار
صفحۂ دل ستی کیا ہوں حک
شور ہے بس کہ تجھ ملاحت کا
دل ہمارا ہوا ہے کان نمک
گر جلا چاہتا ہے مثل سراجؔ
اے دل اس شعلہ رو کی دیکھ جھلک
غم کی جب سوزش سیں محرم ہووے گا
چشمۂ خورشید شبنم ہووے گا
یاد لاوے گا کبھی تو مجھ کوں یار
شمع بن پروانہ پر کم ہووے گا
عاشق و معشوق میں ثالث ہے عشق
صلح کا پیغام باہم ہووے گا
کفر و ایماں دو ندی ہیں عشق کیں
آخرش دونو کا سنگم ہووے گا
سرو قد کے بن عبث ہے سیر باغ
بار غم سیں سرو بھی خم ہووے گا
گر کرے احوال شبنم پر نظر
رتبۂ خورشید کیا کم ہووے گا
کعبۂ کوئے صنم میں اے سراجؔ
اشک میرا آب زمزم ہووے گا
جاناں پہ جی نثار ہوا کیا بجا ہوا
اس راہ میں غبار ہوا کیا بجا ہوا