ہزاروں خواہشیں ایسی
ستاروں سے آگے
کبھی اے حقیقتِ منتظر
دل سے جو بات
پتا پتا بوٹا بوٹا
دکھائی دیے یوں
لائی حیات
اب تو گھبرا کے
گلِ رعنا
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
تحفہِ درد
ہے اور بھی
کون ہے یہ
انشا جی اٹھو
دل لگی
پریم کی
لگتا نہیں ہے دل
فسانہ کیا ہے
کچھ اور ہے
نہ ہوا