ہر شے کا تجھ سے ہے جلوہ عیاں کہیں کہیں
تیرے بغیر کچھ نہیں ہے اس جہاں کہیں کہیں
دل کی تباہیوں کا کیا پوچھتے ہو حال تم
اجڑے ہوئے مکان سے گزرا ہے کارواں کہیں کہیں
ناصح کی بات سن کے جو ہم نے کیا یقین
توبہ ہوئی ہے پھر بھی تو کیسی نہاں کہیں کہیں
ایسا نہ ہو کہ پردۂ آشکار ہو
رکھنا بچا کے یہ چشمِ بتاں کہیں کہیں
ذوق اپنی شاعری کا اثر دیکھنا کبھی
پھیلے گا اس سخن کا فروغاں جہاں کہیں کہیں
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوق
اولاد سے تو ہے یہی دو دن چار دن
کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میں
شاید یہ جانتا تھا کہ تو آنے والا ہے
دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے
اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام میں ہے خدمتِ آقا نہ کرو تم