عمر گزری تیرے ملنے کی ہمیں آس رہی
ہر نفس میں تیری سی تیری باس رہی
دور رہ کر بھی تو نزدیک رہا کے سدا
اس لیے تجھ سے نہ اک پل بھی یہ دل داس رہی
چاند تاروں سے ملا لیتے تھے ہم دل کا پتا
رات بھر محفلِ غم کی یہی راس رہی
صبر کے پھول کھلے درد کی اس کیاری میں
تیرے غم سے میرے دامن کی سدا سانس رہی
دل نہ ہارا ولی امید کے اس صحرا میں
تجھ کو پانے کی سدا اس کو تلاش رہی
کیا کہوں کچھ کہا نہیں جاتا
اب تو بن تیرے رہا نہیں جاتا
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
ہے وظیفہ مجھ دلِ بیمار کا
راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں
تا قیامت کھلا ہے بابِ سخن
جسے عشق کا تیر کاری لگے
اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مجھ دلِ بیمار کا