انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
اس کے دریدہ دامن کو دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھول میں سو سو چھید ہوئے اس جھول کا پھیلانا کیا
شام آئی تو اجڑا کوچۂ دل اور رات گئی تو ویرانہ ہے
اس گھر میں بسائے کون یہاں جب کوچ ہے اور جگہ جگہ کا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیواروں پر تو خاک اڑی دیواروں کا یہ فسانہ کیا
کہہ انشا اپنی ہستی کا تو آپ ہی قائل ہو جائے یاں
جب تو ہی نہیں تو پھر کیا ہے یہ ہونا اور نہ ہونا کیا
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
سودائے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ سہے صدمے
پھر بھی دلِ ناداں کو آرام نہیں آیا
دل مل گئے ہیں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ
اب ہم جدا ہو بھی تو یہ دل جدا نہیں
روز یہ بات سنا کرتے ہیں لوگ
دل لگانا کوئی آسان نہیں