سودائے میں ہم نے کیا کیا نہ سہے صدمے
پھر بھی دلِ ناداں کو آرام نہیں آیا
رو رو کے گزاری ہے ہر تیرے ہجراں میں
صبحوں کو کبھی لب پر پیغام نہیں آیا
دنیا نے دیے دکھ تو دل نے انہیں سہہ ڈالا
پھر بھی تیرے کوچے سے الزام نہیں آیا
امید کے دیپک کو تھامے رہے راتوں میں
لیکن تیری الفت کا انجام نہیں آیا
انشا کی تباہی کا کس کو ہے خبر دل میں
اس دردِ محبت کا انجام نہیں آیا
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
سودائے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ سہے صدمے
پھر بھی دلِ ناداں کو آرام نہیں آیا
دل مل گئے ہیں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ
اب ہم جدا ہو بھی تو یہ دل جدا نہیں
روز یہ بات سنا کرتے ہیں لوگ
دل لگانا کوئی آسان نہیں