غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا کیا
ہمارے سے تجھے کچھ تو دلفگار کیا
تیرے فنوں نے ہمیں اور بے قرار کیا
ہر ایک رات کو تاروں سے بات کی میں نے
ہر ایک صبح تجھے یاد بار بار کیا
خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
جو تو نے کیا وہ بھی تو اعتبار کیا
یہ کس مقام پہ داغ آ کے دل کو چھوڑ گئے
نہ اب خوشی کا گزر ہے نہ غم سے پیار کیا
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا