لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا
عمر بھر کون نبھاتا ہے رفاقت کی قسم
یہ سبھی جانتے تھے حال پرانا تیرا
دردِ لے کے چلے اور دعائیں لے کے
کس قدر رہے گا مجھے جانا تیرا
تیرا ملنا ہی بن گیا ہے سزائے ہجراں
اور بھی غم ہوئے تازہ یہ دکھانا تیرا
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
داغ کو دیکھ لیا ہو نہ زمانہ تیرا
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا