تیرا خیال ہے میں بسا اور کچھ نہیں
میرا یہ حال ہے بس اک اور کچھ نہیں
وہ بے وفا ہی سہی پر مجھے تو یار ہے وہ
شکایتوں میں چھپی اک وفا اور کچھ نہیں
جو درد تو نے دیا اس کو میں سنبھالے ہوں
یہ حسنِ طلب کی میری جفا اور کچھ نہیں
تمام عمر اسی ایک در پہ سجدہ کیا
یہ بندگی ہے میری انتہا اور کچھ نہیں
یہ مصحفی نے محبت میں کیا کمایا ہے
فقط یہ دل کی لگی کی سزا اور کچھ نہیں
اے مصحفی تو ان رخِ زیبا سے کچھ لکھ
پروانہ ہے یہ موجِ صبا اور کچھ نہیں
دیکھا جو حسنِ یار تو دل تھام کے رہ گئے
آنکھوں میں وہ جمال کا جلوہ سما گیا
ہوئی جس دم سے آنکھیں چار دل کو ہو گیا کیا کیا
مگر یہ عشق مجھ کو دے گیا آزار کیا کیا
غمِ ہجراں میں کٹتی ہے مری ساری رات
سحر کے واسطے تاروں کو میں گنتا ہوں
نہ چھیڑ اے فلک اب تو یہ سازِ زندگی
کہ ایک آہ میں ہے گردشِ روزگار مری
اے دل تجھے اب اس میں ہے کیا اضطراب
جو ہونا تھا سو ہو چکا اب صبر اور کچھ نہیں
فسانہ کیا ہے
حیدر علی آتش