سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا کیا ہے
کہتی ہے تجھ کو خلقِ غائبانہ کیا ہے
تو خود ہی سوچ اے دل یہ عشق کا سفر ہے
منزل کہاں ہے اور یہ راہِ بیگانہ کیا ہے
وہ حسن جس نے مجھ کو کیا ہے یوں بے خود
پوچھو نہ مجھ سے گردشِ پیمانہ کیا ہے
دنیا سمجھ رہی ہے جنون میرا فضول
اس کو خبر نہیں کہ یہ دیوانہ کیا ہے
آتش تمام عمر یونہی مٹ کے جی لیے
اب کیا بتائے عشق کا افسانہ کیا ہے
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا
باہر نکل کے دیدۂ حیراں کے چار سو
عالم ہے حسنِ یار کے جلوے میں غرق کیا
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
لپٹتی ہے دھواں بن کے یہ آہِ دلِ زار
مرے نکلتے ہی گھر سے چراغ بجھتے ہیں
بندگی میں بھی وہ آزادہ و خود بیں ہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
اور کچھ نہیں
غلام ہمدانی مصحفی