دنیا میں اب تو کا انداز کچھ اور ہے
ہر دل میں چھپی کی آواز کچھ اور ہے
وہ لوگ اب نہیں رہے وہ بات اب کہاں
اس دور کی تہذیب کا آغاز کچھ اور ہے
مشرق کی روح اور ہے مغرب کی عقل اور
ہر قوم کے جینے کا طرز و راز کچھ اور ہے
اکبر نہ سمجھو عشق کو دنیا کی طرح تم
اس بندِ محبت کا تو اعجاز کچھ اور ہے
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں