ڈھلی ہے اور دیپک ابھی جلتا ہے
تیرے آنے کی امید میں مچلتا ہے
ہر آہٹ پر میں دروازے تک آ جاتا ہوں
پھر لوٹ کے خالی دامن واپس جاتا ہوں
تاروں نے بھی گنتی چھوڑ دی انتظار میں
صبح ہو چلی مگر تو نہ آیا پیار میں
انشا کہہ دے اس سے کہ اب رات ڈھل گئی
ایک عمر کی طرح یہ گھڑی بھی نکل گئی
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
سودائے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ سہے صدمے
پھر بھی دلِ ناداں کو آرام نہیں آیا
دل مل گئے ہیں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ
اب ہم جدا ہو بھی تو یہ دل جدا نہیں
روز یہ بات سنا کرتے ہیں لوگ
دل لگانا کوئی آسان نہیں