ڈھلتی رہی اور میں جاگتا رہا
ہر صدا پر تیرا ہی نام مانگتا رہا
وہ نہ آئے مگر یہ یوں کہہ رہا
آج نہیں تو کل سہی میں تاکتا رہا
شمع بجھتی رہی پروانے جلتے رہے
امید کی کرن کو میں یوں پالتا رہا
داغ کہہ دو انہیں اب تو چلے آئیے
عمرِ رفتہ کا حسن یوں ڈھلتا رہا
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا