تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے
جس لیے آئے تھے ہم کر چلے
پس منظر
شاعر کے بارے میں
صوفی بزرگ اور اٹھارہویں صدی کی اردو غزل کے تین ستونوں میں سے ایک۔
مزید پڑھیںResponses
No comments yet. Be the first to respond.
آ عندلیب صلح کریں جنگ ہو چکی
لے اے زباں دراز تو سب کچھ سوائے گل
دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں