کیا کہوں کچھ کہا نہیں جاتا
اب تو بن تیرے رہا نہیں جاتا
پس منظر
شاعر کے بارے میں
"اردو شاعری کے باوا آدم"، جن کے دکنی دیوان نے غزل کو اس زبان میں متعارف کرایا۔
مزید پڑھیںResponses
No comments yet. Be the first to respond.
آ بیٹھتا تھا صوفی ہر صبح میکدے میں
شکر خدا کہ نکلا واں سے خراب ہو کر
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا