جینے پر بیس اشعار — زندگی کو تولتے، آزماتے، سراہتے۔
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ
یہ دردِ جوانی بھی عجب رنگ دکھاتا ہے
ہر غم میں بھی اک چاشنی سی گھلی رہتی ہے
میں ایک مسافر ہوں میری منزل کوئی نہیں
ہر راہ میری ہے اور ہر گھر میرا نہیں
دن بھر کی محنت کے بعد جب روٹی نظر آتی ہے
تو مزدور کے ہاتھوں میں پوری کائنات آتی ہے
راہ کے ساتھی مل جائیں تو سفر آسان لگتا ہے
اکیلا چلنے والا ہر منزل کو دور پاتا ہے
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزاروں سال سے رہبر بھی ہیں رہزن بھی
یہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں جانور
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گے
وطن کی راہ میں جو سر کٹائے جاتے ہیں
انہی کے نام سے یہ باغ مسکراتے ہیں
اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی
میں خود بھی تو نہیں اپنا خریدار زندگی
مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی رہی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی رہی
زندگی اپنی اسی شوق میں گزری ناسخ
آج وہ آئے کہ کل آئے کہ پرسوں آئے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
شہر سو جاتا ہے پر اس کی روشنی نہیں سوتی
ہر کھڑکی ایک جاگتی ہوئی آنکھ کی طرح ہوتی ہے
ہم نئے لوگ ہیں پرانے درد نئے انداز میں
وہی تنہائی وہی غم بس نام بدل گیا
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے